> غزل اتنا ٹوٹا ہوں کے چھونے سے بکھر جاؤں گا. اب اگر اور آزماؤ گے تو مر جاؤں گا. اک عارضی مسافر ہوں میںتیری کشتی میں. دوست تو جہاں مجھ سے کہے گا میں اتر جاؤں گا ہاتھ پکڑو گے تو سایہ بن کے ساتھ رھوں گا ہاتھ چھوڑو گے تو ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاؤںگا
: بت پرستی کا آغاز ابن هشام کا بیان هےک مجھے بعض اهل علم نے بتایا ک عمروبن لحی ایک بار مک سے شام میں کسی غرض سے گیا۔ جب بلقاءکے شهر میں آیا جو عمالق کے زیر حکو مت تھاوهاں کے لوگوں کو بت پوجتے دیکھ کر پوچھا ی بت جن کی تم پر ستش کرتے هو ان کا کیا مفاد هے۔ تو انهوں نے کها۔ ی بت جن کی هم بندگی کرتے هیں۔ قحط میں نے سے بارش طلب کر تے هیں۔تو بارش برسا دیتے هیں ۔ان سے فتح و نصرتطلب کرتےهیں۔ تو وه فتح سے همکنار کر دیتے هیں ،ی سن کرعمرو نے کها مجھے بھی کوی بت دےدو، میں اسے عرب میں لے جاوں اور وهاں کےلوگ اس کی بندگی کریں وه هبل بت کو مک لے آیا۔ اور اسے نصب کر دیااور لوگوں کو اس کی پر ستش کا حکم دیا
Comments
Post a Comment