> غزل اتنا ٹوٹا ہوں کے چھونے سے بکھر جاؤں گا. اب اگر اور آزماؤ گے تو مر جاؤں گا. اک عارضی مسافر ہوں میںتیری کشتی میں. دوست تو جہاں مجھ سے کہے گا میں اتر جاؤں گا ہاتھ پکڑو گے تو سایہ بن کے ساتھ رھوں گا ہاتھ چھوڑو گے تو ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاؤںگا
محبت مٹی کےرنگ برنگ چهر دیکھے کر نهیں هوتی۔ بلک روح سے هو تی هے۔ کبھی کبھی خو بصورت چهروں سے نهیں هوتی۔اور هوجاے۔تو کسی عام چهر سے بھی هو جاتی هے۔اور همیں دنیا کا سب سے خوبصورت چهر لگنے لگتا هے محبت کا خوبصورتی سے کوی تعلق نهیں
Comments
Post a Comment